Home / دلچسپ و عجیب / دبئی میں ہونے والی پانچ بڑی بے حیایاں 5 (Social Loopholes in Dubai )

دبئی میں ہونے والی پانچ بڑی بے حیایاں 5 (Social Loopholes in Dubai )

ویسے تو عرب ممالک کو اللہ تعالی نے قدرتی وسائل سے نوازا ہے آئل ان ممالک کی سب سے بڑی طاقت ہے۔زیادہ تر عرب ممالک میں بادشاہت رائج ہے اس حکومت میں اختیارات صرف ایک شخص کے پاس ہوتے ہیں۔سعودی عرب اور دبئی کا شاھی خاندان بلاشبہ ایک الگ ہی چمک دمک رکھتا ہے۔جتنی تعمیرو ترقی ان ممالک میں ان حالیہ چند سالوں میں ہوئی ہے اتنی شاید ہی کہیں ہوئی ہو۔اگر ان ریاستوں میں کسی ایک کو ترجیح دی جائے تو وہ دبئی ہی ہے۔جتنی ترقی دبئی نے دس سالوں میں کی اتنی شاید کسی نے پچاس سالوں میں بھی نہیں کی ہو گی۔

دبئی ایک لبرل ریاست ہے آئیے اب ہم دیکھتے ہیں کہ دبئی نے کن کن برائیوں کو جنم دیا ہے ہم پانچ ایسی برائیوں کا زکر کریں گے جنہوں نے دنیا کے تمام لوگوں کو دبئی کی طرف کھینچ لیا ہے۔

شراب خانے

اس بات میں کوئی شک نہیں کہ اسلام میں شراب اور الکوہل کی اجازت نہیں ہےان کے لیے حرام کا لفظ استعمال کیا گیا ہے۔اگر یہ غلط نہیں تو جن چیزوں کو اسلام نے حرام قرار دے دیا ہے نہ تو آپ ان کو استعمال کر سکتے ہیں نہ ان کی تجارت کر سکتے ہیں لیکن نہایت افسوس کے ساتھ ایک اسلامی ریاست جس کا نام دبئی ہے یہاں درجنوں کے حساب سے شراب خانے بنائے گئے ہیں اور ان میں سرعام شراب پی بھی جاتی ہے اور اس کا کاروبار بھی کیا جاتا ہے۔یہاں پر شراب خانہمیں شراب پینے  کے لیے پہلے لائسنس لینا پڑتا ہے اس   کے لیے ضروری ہے کہ آپ کے پاس لائسینس ہو تو آپ شراب نوشی کر سکتے ہیں۔

آپ کی عمر 21 سال ہونی چاہئےآپ غیر مسلم ہوں آپ کی آمدنی تین ہزار درہم ہونی چاہیےاگر آپ ان شرائط پر پورا اترتے ہیں تو آپ اس برائی کا حصہ بن سکتے ہیں لیکن نہایت افسوس کے ساتھ ایک اسلامی ریاست میں شراب خانے جیسی برائی کا کوئی کنسپٹ نہیں ہے۔

کسینو

شراب نوشی کے ساتھ ساتھ دوسرا کام ہے جوا کھیلنا جوا کھیلنا بھی اسلام میں حرام ہے اور دبئی جو کہ ایک اسلامی ریاست ہے اس میں جوا خانہ کی تعداد بہت زیادہ ہے یہاں لوگ زیادہ تعداد میں کسینو میں جا کر جوا کھیلتے ہیں کسینو ایک ایسا دلکش جوا کا اڈہ ہوتا ہے جہاں پر جدید بنیادوں پر جوا کھیلوایا جاتا ہے نہایت افسوس کے ساتھ دبئی میں چار بڑے اور دلکش کسینو بنائے گئے ہیں۔

یہاں جوا کھیلوانے کے لیے نت نئے ٹیبل اور مشینیں رکھی جاتی یہں جہاں لوگ روزانہ کروڑوں کا جوا ہار کر جاتے ہیں دبئی کےچار انٹرنیشنل کسینو ہیں جن میں 74 سلاٹ اور ہزاروں مشینیں رکھی گئی ہیں ان جگہوں پر آپ کو بلیک چیک سلاٹ مشین امریکن وولیٹ اورہارس ریسنگ جیسی گیم کھیلنے کو ملیں گی۔اسی کے ساتھ ساتھ یہاں سپورٹس بیٹینگ کا بھی بڑا ٹرینڈ ہے۔خصوصا یہاں اونٹوں کی گیم پر بہت پیسہ لگایا جاتا ہے

سور کے گوشت کی دکانیں(Pork Shop)

سور اور خنزیر ایک ایسا لفظ ہے جس کا نام لیتے ہی زہن میں باگواری سی گزری ہے قرآن کی آیات کے مطابق سور سخت سخت حرام ہ مگر یورپ میں سور کے گوشت کے بڑے شوق سے کھایا جاتا ہے یہاں کے غیر مسلم لوگ اس کو بہت پسند کرتے ہیں سور کے گوشت کو پورک کہا جاتاہے ۔نہایت افسوس کے ساتھ اسلامی ریاست دبئی میں غیر مذہب لوگوں کے شوق کو مدنظررکھتے ہوئے پورک ریسٹورنٹ بنائے گئے ہیں یہاں پر بہت سی مارکیٹ ہیں جہاں سے پورک آسانی سے مل جاتا ہے شارجہ کہ علاوہ تمام ریاستوں میں پورک آسانی سے مل جاتا ہے

ثقافت میں لبرل (Libral In Culture)

کسی بھی اسلامی ریاست میں شارٹس اور بکنی کا تو کوئی تصورنہیں ہےلیکن دبئی جو کہ اسلامی ریاست ہےوہاں پر یہ سب عام دیکھنے کو ملتا ہے 

دبئی کے ساحل پر یہ سب عام دیکھنے کو ملتا ہے دبئی کا ساحل بھی کسی یورپی ساحل سے کم نہیں ہےیہاں پر غیر ملکی باشندے اور حسن کی دیویاں نیم ننگی حالت میں یہاں پر پائے جاتے ہیں دبئی کے اس ملک میں ایک طرف تو برقعے اور ابائے پہنے جا رہے ہیں تو دوسری طرف بے حیائی اپنے عروج پر ہےاور یہ سب کچھ حکومتی سرپرستی اور اجازت کے ساتھ ہی ہورہا ہے۔

نائیٹ کلب 

ایک اسلامی ریاست نائیٹ کلب بھی افورڈ نہیں کر سکتی یہ نائیٹ کلب فحاشیت کی اماج گاہ ہوتے ہیں یہاں کھلم کھلا ناچ گانا اور شور شرابا چلتا ہے اسلامی ریاست دبئی نائیٹ کلب کی سر زمیں بھی بن چکا ہے یہاں یورپین لیول کے بڑے بڑے نائیٹ کلب بنائے گئے ہیں ان نائیٹ کلب میں رات کی تاریکی میں بے حیائی کی ایک تاریخ رقم کی جاتی ہےشراب نوشی کی سہولت بھی دستیاب ہوتی ہے یہاں پر لوگ اپنا دل بہلانے کے لیے آتے ہیں دبئی میں کبھی رات نہیں ہوتی یہاں کی راتیں دن سے زیادہ روشن ہوتی ہیں نائیٹ کلب رات 10 بجے سے صبح 3 بجے تک کھلے رہتے ہیں

 

Check Also

نقیب اللہ مسعود اور بختاور بھٹو کا آپس میں کیا تعلق تھا حیران کن انکشاف۔۔۔

13 جنوری کو ملیر کے علاقے میں آپریشن ہوااور اس آپریشن کے بعد پولیس نے اپنی رپورٹ جاری کی۔ملیر میں کیے جانے والے آپریشن میں بہت سے دہشت گردوں کو ہلاک کیا گیا تھا،آپریشن ایس ایس پی خلیل راو انوار کی نگرانی میں کیا گیا تھااس کے بعد سوشل میڈیا پر ہلچل مچ گئی اور ایک بات سامنے آئی کہ اور چار دہشت گردوں میں ایک نقیب محسود ہے جس کا دہشت گردوں سے کوئی تعلق نہیں ہے بلکہ کراچی کے علاقے سہراب کوٹ کا رہاشی ہے جو کہ کچھ عرصہ سےوزیرستان سے کراچی رہائیش پزیر ہوا تھا اس خبر کے بعد راو انوار نے اپنی رپورٹ فوری پیش کی اور اس رپورٹ کے مطابق نقیب مسعود وزیرستان میں پیدا ہوا۔ اس نے اپنی ابتدائی تعلیم بہادر خیل کے ایک مدرسہ سے حاصل کی ذرائع نے یہ دعوی کیا کہ نقیب مسعود ایک عام شہری اور تین بچوں کا باپ ہے۔سوشل میڈیا پر دی جانے والی تصویر میں ایک تصویر میں نقیب اللہ

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

%d bloggers like this: